ابنا: روئٹرز نيوز ايجنسي کے مطابق کويت ميں ہر قسم کے احتجاج اجتماعات کو سرکاري طور پر غير قانوني قرار ديئے جانے کے بعد اس ملک کي سيکورٹي فورس نے گزشتہ روز سينٹرل جيل کے سامنے مظاہرہ کرنے والوں پر حملہ کرديا جس کے نتيجے ميں درجنوں مظاہرين زخمي ہوگئے-پوليس نے متعدد مظاہرين کو گرفتار بھي کرليا جن ميں سابق رکن پارليمان مسلم البراک بھي شامل ہيں- کويت کي ايک عدالت نے مسلم البراک ملک کے بادشاہ شيخ صباح الاحمد الصباح پر تنقيد کرنے کا الزام عائد کيا ہے-
کويت کي سيکورٹي فورس نے گزشتہ ہفتے بھي ايک مظاہرے کو طاقت کے بل پر کچل ديا تھا جسکے دوران ايک سو کے قريب مظاہرين زخمي ہوگئے تھے- گزشتہ ہفتے اتوار کے روز ہونے والے مظاہرے کو اس ملک کي تاريخ ميں ہونے والا سب سے مظاہرے قرار ديا جارہا ہے جس ميں ہزاروں کي تعداد ميں لوگ شريک تھے- يہ مظاہرے امير کويت کے ان احکامات کے خلاف کئے گئے جن ميں انہوں نے ملک انتخابي قوانين ميں ترميم اور قبل از وقت انتخابات کرانے جانے کا حکم ديا تھا-
اب کويت کي وزارت داخلہ نے اعلان کيا ہے کہ ملک ميں ہر قسم کے اجتماعات غير قانوني ہونگے اور مظاہرے کرنے والوں سے سختي کے ساتھ نمٹا جائے گا-دوسري جانب کويتي مظاہرين نے اس عزم کا اظہار کيا ہے کہ وہ حکومت کے تمامتر تشدد آميز اقدامات کے باوجود اپنے مطالبات پورنے ہونے اور ضروروي جمہوري اصلاحات کے حصول تک مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاري رکھيں گے-
کويت سے ملنے والي تازہ ترين خبرون ميں کہا گيا ہے کہ سابق رکن پارليمان مسلم البراک کي گرفتاري کے بعد ملک ميں شديد عوامي ردعمل سامنے آيا اور ايک اور سابق رکن پارليمان فيصل المسلم کو حکومت کے پر تنقيد کرنے کے جرم ميں عدالت ميں پيش ہونے کا حکم ديا گيا ہے- وہ ايسے چھٹے سابق رکن پارليمان نے جنہيں ملک کے مطلق العنان حکمراں شيخ صباح الاحمد جابراالصباح پر تنقيد کےالزام ميں عدالت ميں طلب کيا گيا ہے-کويتي آئين کے تحت کسي کو ملک کےبادشاہ پر تنقيد کرنے کا حق حاصل نہيں ہے ليکن مسلم البراک انے پندرہ اکتوبر کو حکومت مخالف مظاہرے کے دوران امير کويت کے طريقہ حکمراني پر سخت تنقيد کي تھي
بنا برايں يہ کہا جاسکتا ہے کہ کويت کا سياسي بحران اس وقت شروع ہوا جب امير کويت نے نملک کے انتخابي قوانين کوناقص قرار ديتے ہوئے ان ميں تبديلي کا حکم ديا-امير کويت کے حکم کے بعد ملک کي کابينہ نے ملک کے متنازعہ انتخابي قوانين ميں من ماني ترميم کر ڈالي اور يکم دسمبر کو پارليماني انتخابات کي تاريخ کا مقرر کرديا-کويت کے انتخابي قوانين ميں کابنيہ کي جانب سے کي جانے والي تراميم کي عدالت نے بھي توثيق کردي ہے اور يوں انتخابي معاملات ميں حکومت کي زيادہ سے زياد مداخلت کا راستہ ہموار ہوگيا يہي اس کے خلاف عوامي مخالفت کا سبب بن گيا-
.....
/169